کلامِ جگرردیف ے

راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہے

۱

راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہےسب سے پہلے دل شاعر پہ عیاں ہوتا ہے

۲

سخت خوں ریز جب آشوب جہاں ہوتا ہےنہیں معلوم یہ انسان کہاں ہوتا ہے

۳

جب کوئی حادثۂ کون و مکاں ہوتا ہےذرہ ذرہ میری جانب نگراں ہوتا ہے

۴

جو نظر کردۂ صاحب نظراں ہوتا ہےاسی دیوانے کے قدموں پہ جہاں ہوتا ہے

۵

جب کوئی عشق میں برباد جہاں ہوتا ہےمجھ کو محسوس خود اپنا ہی زیاں ہوتا ہے

۶

متزلزل ہے ادب گاہ محبت کی زمیںکوئی دیکھے تو یہ ہنگامہ کہاں ہوتا ہے

۷

کہیں ایسا تو نہیں وہ بھی ہو کوئی آزارتجھ کو جس چیز پہ راحت کا گماں ہوتا ہے

۸

دل غنی ہو تو ہر اک رنج بھی دل کی راحتذہن مفلس ہو تو ہر سود زیاں ہوتا ہے

۹

امتحاں گاہ محبت میں نہ رکھے وہ قدمموت کے نام سے جس کو خفقاں ہوتا ہے

۱۰

یہی وہ منزل دشوار ہے جس منزل میںختم ہر مرحلۂ سود و زیاں ہوتا ہے

۱۱

ہر قدم معرکۂ کرب و بلا ہے درپیشہر نفس سانحۂ مرگ جواں ہوتا ہے

۱۲

ناز جس خاک وطن پر تھا مجھے آہ جگرؔاسی جنت پہ جہنم کا گماں ہوتا ہے

۶۲ / ۸۹