کلامِ جگرردیف ے
راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہے
راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہےسب سے پہلے دل شاعر پہ عیاں ہوتا ہے
سخت خوں ریز جب آشوب جہاں ہوتا ہےنہیں معلوم یہ انسان کہاں ہوتا ہے
جب کوئی حادثۂ کون و مکاں ہوتا ہےذرہ ذرہ میری جانب نگراں ہوتا ہے
جو نظر کردۂ صاحب نظراں ہوتا ہےاسی دیوانے کے قدموں پہ جہاں ہوتا ہے
جب کوئی عشق میں برباد جہاں ہوتا ہےمجھ کو محسوس خود اپنا ہی زیاں ہوتا ہے
متزلزل ہے ادب گاہ محبت کی زمیںکوئی دیکھے تو یہ ہنگامہ کہاں ہوتا ہے
کہیں ایسا تو نہیں وہ بھی ہو کوئی آزارتجھ کو جس چیز پہ راحت کا گماں ہوتا ہے
دل غنی ہو تو ہر اک رنج بھی دل کی راحتذہن مفلس ہو تو ہر سود زیاں ہوتا ہے
امتحاں گاہ محبت میں نہ رکھے وہ قدمموت کے نام سے جس کو خفقاں ہوتا ہے
یہی وہ منزل دشوار ہے جس منزل میںختم ہر مرحلۂ سود و زیاں ہوتا ہے
ہر قدم معرکۂ کرب و بلا ہے درپیشہر نفس سانحۂ مرگ جواں ہوتا ہے
ناز جس خاک وطن پر تھا مجھے آہ جگرؔاسی جنت پہ جہنم کا گماں ہوتا ہے
۶۲ / ۸۹