کلامِ جگرردیف ے

خوشا بیداد خون حسرت بیداد ہوتا ہے

۱

خوشا بیداد خون حسرت بیداد ہوتا ہےستم ایجاد کرتے ہو کرم ایجاد ہوتا ہے

۲

بظاہر کچھ نہیں کہتے مگر ارشاد ہوتا ہےہم اس کے ہیں جو ہم پر ہر طرح برباد ہوتا ہے

۳

مرے ناشاد رہنے پر وہ جب ناشاد ہوتا ہےبتاؤں کیا جو میرا عالم فریاد ہوتا ہے

۴

یہی ہے راز آزادی جہاں تک یاد ہوتا ہےکہ نظریں قید ہوتی ہیں تو دل آزاد ہوتا ہے

۵

دل عاشق بھی کیا مجموعۂ اضداد ہوتا ہےادھر آباد ہوتا ہے ادھر برباد ہوتا ہے

۶

وہ ہر اک واقعہ جو صورت افتاد ہوتا ہےکبھی پہلے بھی دیکھا تھا کچھ ایسا یاد ہوتا ہے

۷

بڑی مشکل سے پیدا ایک وہ آدم زاد ہوتا ہےجو خود آزاد جس کا ہر نفس آزاد ہوتا ہے

۸

نگاہیں کیا کہ پہروں دل بھی واقف ہو نہیں سکتازبان حسن سے ایسا بھی کچھ ارشاد ہوتا ہے

۹

تمہیں ہو طعنہ زن مجھ پر تمہیں انصاف سے کہہ دوکوئی اپنی خوشی سے خانماں برباد ہوتا ہے

۱۰

یہ مانا ننگ پابندی سے کیا آزاد کو مطلبمگر وہ شرم آزادی سے بھی آزاد ہوتا ہے

۱۱

تصور میں ہے کچھ ایسا تری تصویر کا عالمکہ جیسے اب لب نازک سے کچھ ارشاد ہوتا ہے

۱۲

کوئی حد ہی نہیں شاید محبت کے فسانے کیسناتا جا رہا ہے جس کو جتنا یاد ہوتا ہے

۶۳ / ۸۹