کلامِ جگرردیف ے
جہل خرد نے دن یہ دکھائے
۱
جہل خرد نے دن یہ دکھائےگھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے
۲
ہائے وہ کیونکر دل بہلائےغم بھی جس کو راس نہ آئے
۳
ضد پر عشق اگر آ جائےپانی چھڑکے آگ لگائے
۴
دل پہ کچھ ایسا وقت پڑا ہےبھاگے لیکن راہ نہ پائے
۵
کیسا مجاز اور کیسی حقیقتاپنے ہی جلوے اپنے ہی سائے
۶
جھوٹی ہے ہر ایک مسرتروح اگر تسکین نہ پائے
۷
کار زمانہ جتنا جتنابنتا جائے بگڑتا جائے
۸
ضبط محبت شرط محبتجی ہے کہ ظالم امڈا آئے
۹
حسن وہی ہے حسن جو ظالمہاتھ لگائے ہاتھ نہ آئے
۱۰
نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کوروح سنے اور روح سنائے
۱۱
راہ جنوں آسان ہوئی ہےزلف و مژہ کے سائے سائے
۶۴ / ۸۹