کلامِ جگرردیف ے
احساس عاشقی نے بیگانہ کر دیا ہے
۱
احساس عاشقی نے بیگانہ کر دیا ہےیوں بھی کسی نے اکثر دیوانہ کر دیا ہے
۲
اب کیا امید رکھوں اے حسن یار تجھ سےتو نے تو مسکرا کر دیوانہ کر دیا ہے
۳
تجھ سے خدا ہی سمجھے تو نے کسی کو اے دلمجھ سے بھی کچھ زیادہ دیوانہ کر دیا ہے
۴
پھر اس کے دیکھنے کو آنکھیں ترس رہی ہیںیادش بخیر جس نے دیوانہ کر دیا ہے
۵
مجھ کو جنوں سے اپنے شکوہ جو ہے تو یہ ہےمیری محبتوں کو افسانہ کر دیا ہے
۶
اے حسن روز افزوں عمرت دراز باددونوں جہاں سے مجھ کو بیگانہ کر دیا ہے
۷
جب دل میں آ گیا ہے اک جنبش نظر نےدیوانہ کہہ دیا دیوانہ کر دیا ہے
۸
مجھ سے ہی پوچھتے ہیں یہ شوخیاں تو دیکھومیرے جگرؔ کو کس نے دیوانہ کر دیا ہے
۶۶ / ۸۹