کلامِ جگرردیف ے

دل کو مٹا کے داغ تمنا دیا مجھے

۱

دل کو مٹا کے داغ تمنا دیا مجھےاے عشق تیری خیر ہو یہ کیا دیا مجھے

۲

محشر میں بات بھی نہ زباں سے نکل سکیکیا جھک کے اس نگاہ نے سمجھا دیا مجھے

۳

میں اور آرزوئے وصال پری رخاںاس عشق سادہ لوح نے بہکا دیا مجھے

۴

ہر بار یاس ہجر میں دل کی ہوئی شریکہر مرتبہ امید نے دھوکا دیا مجھے

۵

اللہ رے تیغ عشق کی برہم مزاحیاںمیرے ہی خون شوق میں نہلا دیا مجھے

۶

خوش ہوں کہ حسن یار نے خود اپنے ہاتھ سےاک دل فریب داغ تمنا دیا مجھے

۷

دنیا سے کھو چکا ہے مرا جوش انتظارآواز پائے یار نے چونکا دیا مجھے

۸

دعویٰ کیا تھا ضبط محبت کا اے جگرؔظالم نے بات بات پہ تڑپا دیا مجھے

۶۷ / ۸۹