کلامِ جگرردیف ے

اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے

۱

اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہےتجھ سے زیادہ درد ترا کامیاب ہے

۲

عاشق کی بے دلی کا تغافل نہیں جواباس کا بس ایک جوش محبت جواب ہے

۳

تیری عنایتیں کہ نہیں نذر جاں قبولتیری نوازشیں کہ زمانہ خراب ہے

۴

اے حسن اپنی حوصلہ افزائیاں تو دیکھمانا کہ چشم شوق بہت بے حجاب ہے

۵

میں عشق بے نیاز ہوں تم حسن بے پناہمیرا جواب ہے نہ تمہارا جواب ہے

۶

مے خانہ ہے اسی کا یہ دنیا اسی کی ہےجس تشنہ لب کے ہاتھ میں جام شراب ہے

۷

اس سے دل تباہ کی روداد کیا کہوںجو یہ نہ سن سکے کہ زمانہ خراب ہے

۸

اے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینکظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے

۹

اپنے حدود سے نہ بڑھے کوئی عشق میںجو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے

۱۰

وہ لاکھ سامنے ہوں مگر اس کا کیا علاجدل مانتا نہیں کہ نظر کامیاب ہے

۱۱

میری نگاہ شوق بھی کچھ کم نہیں مگرپھر بھی ترا شباب ترا ہی شباب ہے

۱۲

مانوس اعتبار کرم کیوں کیا مجھےاب ہر خطائے شوق اسی کا جواب ہے

۱۳

میں اس کا آئینہ ہوں وہ ہے میرا آئینہمیری نظر سے اس کی نظر کامیاب ہے

۱۴

تنہائی فراق کے قربان جائیےمیں ہوں خیال یار ہے چشم پر آب ہے

۱۵

سرمایۂ فراق جگرؔ آہ کچھ نہ پوچھاب جان ہے سو اپنے لیے خود عذاب ہے

۶۸ / ۸۹