کلامِ جگرردیف ے
آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے
آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھےاب تم ملے تو کچھ نہیں اپنی خبر مجھے
دل لے کے مجھ سے دیتے ہو داغ جگر مجھےیہ بات بھولنے کی نہیں عمر بھر مجھے
ہر سو دکھائی دیتے ہیں وہ جلوہ گر مجھےکیا کیا فریب دیتی ہے میری نظر مجھے
ملتی نہیں ہے لذت درد جگر مجھےبھولی ہوئی نہ ہو نگہ فتنہ گر مجھے
ڈالا ہے بے خودی نے عجب راہ پر مجھےآنکھیں ہیں اور کچھ نہیں آتا نظر مجھے
کرنا ہے آج حضرت ناصح سے سامنامل جائے دو گھڑی کو تمہاری نظر مجھے
مستانہ کر رہا ہوں رہ عاشقی کو طےلے جائے جذب شوق مرا اب جدھر مجھے
ڈرتا ہوں جلوۂ رخ جاناں کو دیکھ کراپنا بنا نہ لے کہیں میری نظر مجھے
یکساں ہے حسن و عشق کی سر مستیوں کا رنگان کی خبر انہیں ہے نہ میری خبر مجھے
مرنا ہے ان کے پاؤں پہ رکھ کر سر نیازکرنا ہے آج قصۂ غم مختصر مجھے
سینے سے دل عزیز ہے دل سے ہو تم عزیزسب سے مگر عزیز ہے تیری نظر مجھے
میں دور ہوں تو روئے سخن مجھ سے کس لیےتم پاس ہو تو کیوں نہیں آتے نظر مجھے
کیا جانئے قفس میں رہے کیا معاملہاب تک تو ہیں عزیز مرے بال و پر مجھے
۶۹ / ۸۹