کلامِ جگرردیف ے

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے

۱

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہےیہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے

۲

جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دویہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے

۳

کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہےمگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یہ تو میکدے کا نظام ہے

۴

یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سےجو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے

۵

اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھرکہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے

۷۰ / ۸۹