کلامِ جگرمثنویات، مراثی و دیگر

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس

۱

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساسدرد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

۲

عشق جب تک نہ کر چکے رسواآدمی کام کا نہیں ہوتا

۳

ٹوٹ پڑتا ہے دفعتاً جو عشقبیشتر دیر پا نہیں ہوتا

۴

وہ بھی ہوتا ہے ایک وقت کہ جبماسوا ماسوا نہیں ہوتا

۵

ہائے کیا ہو گیا طبیعت کوغم بھی راحت فزا نہیں ہوتا

۶

دل ہمارا ہے یا تمہارا ہےہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا

۷

جس پہ تیری نظر نہیں ہوتیاس کی جانب خدا نہیں ہوتا

۸

میں کہ بے زار عمر بھر کے لیےدل کہ دم بھر جدا نہیں ہوتا

۹

وہ ہمارے قریب ہوتے ہیںجب ہمارا پتا نہیں ہوتا

۱۰

دل کو کیا کیا سکون ہوتا ہےجب کوئی آسرا نہیں ہوتا

۱۱

ہو کے اک بار سامنا ان سےپھر کبھی سامنا نہیں ہوتا

۸۵ / ۸۹