کلامِ جگرردیف ی

داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی

۱

داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئیبات بگڑی تھی کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئی

۲

سب کو ہم بھول گئے جوش جنوں میں لیکناک تری یاد تھی ایسی جو بھلائی نہ گئی

۳

عشق پر کچھ نہ چلا دیدۂ تر کا قابواس نے جو آگ لگا دی وہ بجھائی نہ گئی

۴

پڑ گیا حسن رخ یار کا پرتو جس پرخاک میں مل کے بھی اس دل کی صفائی نہ گئی

۵

کیا اٹھائے گی صبا خاک مری اس در سےیہ قیامت تو خود ان سے بھی اٹھائی نہ گئی

۴۵ / ۸۹