کلامِ جگرردیف ی

ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی

۱

ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئیہزار بار نگہ کی مگر کبھی نہ ہوئی

۲

تری خوشی سے اگر غم میں بھی خوشی نہ ہوئیوہ زندگی تو محبت کی زندگی نہ ہوئی

۳

کہاں وہ شوخ ملاقات خود سے بھی نہ ہوئیبس ایک بار ہوئی اور پھر کبھی نہ ہوئی

۴

وہ ہم ہیں اہل محبت کہ جان سے دل سےبہت بخار اٹھے آنکھ شبنمی نہ ہوئی

۵

ٹھہر ٹھہر دل بے تاب پیار تو کر لوںاب اس کے بعد ملاقات پھر ہوئی نہ ہوئی

۶

مرے خیال سے بھی آہ مجھ کو بعد رہاہزار طرح سے چاہا برابری نہ ہوئی

۷

ہم اپنی رندی و طاعت پہ خاک ناز کریںقبول حضرت سلطاں ہوئی ہوئی نہ ہوئی

۸

کوئی بڑھے نہ بڑھے ہم تو جان دیتے ہیںپھر ایسی چشم توجہ ہوئی ہوئی نہ ہوئی

۹

تمام حرف و حکایت تمام دیدہ و دلاس اہتمام پہ بھی شرح عاشقی نہ ہوئی

۱۰

فسردہ خاطرئ عشق اے معاذ اللہخیال یار سے بھی کچھ شگفتگی نہ ہوئی

۱۱

تری نگاہ کرم کو بھی آزما دیکھااذیتوں میں نہ ہونی تھی کچھ کمی نہ ہوئی

۱۲

کسی کی مست نگاہی نے ہاتھ تھام لیاشریک حال جہاں میری بے خودی نہ ہوئی

۱۳

صبا یہ ان سے ہمارا پیام کہہ دیناگئے ہو جب سے یہاں صبح و شام ہی نہ ہوئی

۱۴

وہ کچھ سہی نہ سہی پھر بھی زاہد ناداںبڑے بڑوں سے محبت میں کافری نہ ہوئی

۱۵

ادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوریکہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی

۱۶

خیال یار سلامت تجھے خدا رکھےترے بغیر کبھی گھر میں روشنی نہ ہوئی

۱۷

گئے تھے ہم بھی جگرؔ جلوہ گاہ جاناں میںوہ پوچھتے ہی رہے ہم سے بات بھی نہ ہوئی

۴۶ / ۸۹