کلامِ جگرردیف ہ
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
۱
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہجو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
۲
یہ ترا جمال کامل یہ شباب کا زمانہدل دشمناں سلامت دل دوستاں نشانہ
۳
کبھی حسن کی طبیعت نہ بدل سکا زمانہوہی ناز بے نیازی وہی شان خسروانہ
۴
میں ہوں اس مقام پر اب کہ فراق و وصل کیسےمرا عشق بھی کہانی ترا حسن بھی فسانہ
۵
مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارےمری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ
۶
ترے عشق کی کرامت یہ اگر نہیں تو کیا ہےکبھی بے ادب نہ گزرا مرے پاس سے زمانہ
۷
تری دوری و حضوری کا یہ ہے عجیب عالمابھی زندگی حقیقت ابھی زندگی فسانہ
۸
مرے ہم صفیر بلبل مرا تیرا ساتھ ہی کیامیں ضمیر دشت و دریا تو اسیر آشیانہ
۹
میں وہ صاف ہی نہ کہہ دوں جو ہے فرق مجھ میں تجھ میںترا درد درد تنہا مرا غم غم زمانہ
۱۰
ترے دل کے ٹوٹنے پر ہے کسی کو ناز کیا کیاتجھے اے جگرؔ مبارک یہ شکست فاتحانہ
۴۴ / ۸۹