کلامِ جگرردیف ی

شب وصل کیا مختصر ہو گئی

۱

شب وصل کیا مختصر ہو گئیذرا آنکھ جھپکی سحر ہو گئی

۲

نگاہوں نے سب راز دل کہہ دیاانہیں آج اپنی خبر ہو گئی

۳

بڑی چیز ہے طرز بیگانگییہ ترکیب اگر کارگر ہو گئی

۴

الٰہی برا ہو غم عشق کاسنا ہے کہ ان کو خبر ہو گئی

۵

کئے مجھ پہ احساں غم یار نےہمیشہ کو نیچی نظر ہو گئی

۶

نمایاں ہوئی صبح پیری جگرؔبس اب داستاں مختصر ہو گئی

۴۷ / ۸۹