کلامِ جگرردیف ی
دل گیا رونق حیات گئی
۱
دل گیا رونق حیات گئیغم گیا ساری کائنات گئی
۲
دل دھڑکتے ہی پھر گئی وہ نظرلب تک آئی نہ تھی کہ بات گئی
۳
دن کا کیا ذکر تیرہ بختوں میںایک رات آئی ایک رات گئی
۴
تیری باتوں سے آج تو واعظوہ جو تھی خواہش نجات گئی
۵
ان کے بہلائے بھی نہ بہلا دلرائیگاں سعئ التفات گئی
۶
مرگ عاشق تو کچھ نہیں لیکناک مسیحا نفس کی بات گئی
۷
اب جنوں آپ ہے گریباں گیراب وہ رسم تکلفات گئی
۸
ہم نے بھی وضع غم بدل ڈالیجب سے وہ طرز التفات گئی
۹
ترک الفت بہت بجا ناصحلیکن اس تک اگر یہ بات گئی
۱۰
ہاں مزے لوٹ لے جوانی کےپھر نہ آئے گی یہ جو رات گئی
۱۱
ہاں یہ سرشاریاں جوانی کیآنکھ جھپکی ہی تھی کہ رات گئی
۱۲
جلوۂ ذات اے معاذ اللہتاب آئینۂ صفات گئی
۱۳
نہیں ملتا مزاج دل ہم سےغالباً دور تک یہ بات گئی
۱۴
قید ہستی سے کب نجات جگرؔموت آئی اگر حیات گئی
۴۸ / ۸۹