کلامِ جگرردیف ی

وہ کافر آشنا نا آشنا یوں بھی ہے اور یوں بھی

۱

وہ کافر آشنا نا آشنا یوں بھی ہے اور یوں بھیہماری ابتدا تا انتہا یوں بھی ہے اور یوں بھی

۲

تعجب کیا؟ اگر رسم وفا یوں بھی ہے اور یوں بھیکہ حسن و عشق کا ہر مسئلہ یوں بھی ہے اور یوں بھی

۳

کہیں ذرہ کہیں صحرا کہیں قطرہ کہیں دریامحبت اور اس کا سلسلہ یوں بھی ہے اور یوں بھی

۴

وہ مجھ سے پوچھتے ہیں ایک مقصد میری ہستی کابتاؤں کیا کہ میرا مدعا یوں بھی ہے اور یوں بھی

۵

ہم ان سے کیا کہیں وہ جانیں ان کی مصلحت جانےہمارا حال دل تو برملا یوں بھی ہے اور یوں بھی

۶

نہ پا لینا ترا آساں نہ کھو دینا ترا ممکنمصیبت میں یہ جان مبتلا یوں بھی ہے اور یوں بھی

۷

لگا دے آگ او برق تجلی دیکھتی کیا ہےنگاہ شوق ظالم نارسا یوں بھی ہے اور یوں بھی

۸

الٰہی کس طرح عقل و جنوں کو ایک جا کر لوںکہ منشائے نگاہ عشوہ زا یوں بھی ہے اور یوں بھی

۹

مجازیؔ سے جگرؔ کہہ دو ارے او عقل کے دشمنمقر ہو یا کوئی منکر خدا یوں بھی ہے اور یوں بھی

۴۹ / ۸۹