کلامِ جگرردیف ی
وہ کافر آشنا نا آشنا یوں بھی ہے اور یوں بھی
وہ کافر آشنا نا آشنا یوں بھی ہے اور یوں بھیہماری ابتدا تا انتہا یوں بھی ہے اور یوں بھی
تعجب کیا؟ اگر رسم وفا یوں بھی ہے اور یوں بھیکہ حسن و عشق کا ہر مسئلہ یوں بھی ہے اور یوں بھی
کہیں ذرہ کہیں صحرا کہیں قطرہ کہیں دریامحبت اور اس کا سلسلہ یوں بھی ہے اور یوں بھی
وہ مجھ سے پوچھتے ہیں ایک مقصد میری ہستی کابتاؤں کیا کہ میرا مدعا یوں بھی ہے اور یوں بھی
ہم ان سے کیا کہیں وہ جانیں ان کی مصلحت جانےہمارا حال دل تو برملا یوں بھی ہے اور یوں بھی
نہ پا لینا ترا آساں نہ کھو دینا ترا ممکنمصیبت میں یہ جان مبتلا یوں بھی ہے اور یوں بھی
لگا دے آگ او برق تجلی دیکھتی کیا ہےنگاہ شوق ظالم نارسا یوں بھی ہے اور یوں بھی
الٰہی کس طرح عقل و جنوں کو ایک جا کر لوںکہ منشائے نگاہ عشوہ زا یوں بھی ہے اور یوں بھی
مجازیؔ سے جگرؔ کہہ دو ارے او عقل کے دشمنمقر ہو یا کوئی منکر خدا یوں بھی ہے اور یوں بھی
۴۹ / ۸۹