کلامِ جگرردیف ی
کسی صورت نمود سوز پنہانی نہیں جاتی
کسی صورت نمود سوز پنہانی نہیں جاتیبجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتی
نہیں جاتی کہاں تک فکر انسانی نہیں جاتیمگر اپنی حقیقت آپ پہچانی نہیں جاتی
نگاہوں کو خزاں نا آشنا بننا تو آ جائےچمن جب تک چمن ہے جلوہ سامانی نہیں جاتی
پشیمان ستم وہ دل ہی دل میں رہتے ہیں لیکنخوشا حسنے کہ طرز ناپشیمانی نہیں جاتی
مزاج اہل دل بے کیف و مستی رہ نہیں سکتاکہ جیسے نکہت گل سے پریشانی نہیں جاتی
صداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظحقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی
بلندی چاہیئے انسان کی فطرت میں پوشیدہکوئی ہو بھیس لیکن شان سلطانی نہیں جاتی
گئے وہ دن کہ دل سرمایہ دار درد پیہم تھامگر آنکھوں کی اب تک میر سامانی نہیں جاتی
جسے رونق ترے قدموں نے دے کر چھین لی رونقوہ لاکھ آباد ہو اس گھر کی ویرانی نہیں جاتی
وہ یوں دل سے گزرتے ہیں کہ آہٹ تک نہیں ہوتیوہ یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی
مجھے تو کر دیا سیراب ساقی نے مرے لیکنمری سیرابیوں کی تشنہ سامانی نہیں جاتی
نہیں معلوم کس عالم میں حسن یار دیکھا تھاکوئی عالم ہو لیکن دل کی حیرانی نہیں جاتی
جلے جاتے ہیں بڑھ بڑھ کر مٹے جاتے ہیں گر گر کرحضور شمع پروانوں کی نادانی نہیں جاتی
محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہےکہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
جگرؔ وہ بھی ز سر تا پا محبت ہی محبت ہیںمگر ان کی محبت صاف پہچانی نہیں جاتی
۵۰ / ۸۹