کلامِ جگرردیف د
دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
۱
دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاداب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد
۲
میں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یادشاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد
۳
چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نےاب تک ہے وہ اک نغمۂ بے ساز و صدا یاد
۴
جب کوئی حسیں ہوتا ہے سرگرم نوازشاس وقت وہ کچھ اور بھی آتے ہیں سوا یاد
۵
کیا جانئے کیا ہو گیا ارباب جنوں کومرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد
۶
مدت ہوئی اک حادثۂ عشق کو لیکناب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد
۷
ہاں ہاں تجھے کیا کام مری شدت غم سےہاں ہاں نہیں مجھ کو ترے دامن کی ہوا یاد
۸
میں ترک رہ و رسم جنوں کر ہی چکا تھاکیوں آ گئی ایسے میں تری لغزش پا یاد
۹
کیا لطف کہ میں اپنا پتہ آپ بتاؤںکیجے کوئی بھولی ہوئی خاص اپنی ادا یاد
۲۱ / ۸۹