کلامِ جگرردیف ر
دل حسیں ہے تو محبت بھی حسیں پیدا کر
۱
پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کرپھر اسی خاک سے فردوس بریں پیدا کر
۲
یہی دنیا کہ جو بت خانہ بنی جاتی ہےاسی بت خانے سے کعبے کی زمیں پیدا کر
۳
روح آدم نگراں کب سے ہے تیری جانباٹھ اور اک جنت جاوید یہیں پیدا کر
۴
خس و خاشاک توہم کو جلا کر رکھ دےیعنی آتش کدۂ سوز یقیں پیدا کر
۵
غم میسر ہے تو اس کو غم کونین بنادل حسیں ہے تو محبت بھی حسیں پیدا کر
۶
آسماں مرکز تخئیل و تصور کب تکآسماں جس سے خجل ہو وہ زمیں پیدا کر
۷
دل کے ہر قطرہ میں طوفان تجلی بھر دےبطن ہر ذرہ سے اک مہر مبیں پیدا کر
۸
بندگی یوں تو ہے انسان کی فطرت لیکنناز جس پہ کریں سجدے وہ جبیں پیدا کر
۹
پستئ خاک پہ کب تک تری بے بال و پریپھر مقام اپنا سر عرش بریں پیدا کر
۱۰
عشق ہی زندہ و پایندہ حقیقت ہے جگرؔعشق کو عام بنا ذوق یقیں پیدا کر
۲۲ / ۸۹