کلامِ جگرردیف گ

عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگ

۱

عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگماہتاب آفتاب ہیں ہم لوگ

۲

گرچہ اہل شراب ہیں ہم لوگیہ نہ سمجھو خراب ہیں ہم لوگ

۳

شام سے آ گئے جو پینے پرصبح تک آفتاب ہیں ہم لوگ

۴

ہم کو دعوائے عشق بازی ہےمستحق عذاب ہیں ہم لوگ

۵

ناز کرتی ہے خانہ ویرانیایسے خانہ خراب ہیں ہم لوگ

۶

ہم نہیں جانتے خزاں کیا ہےکشتگان شباب ہیں ہم لوگ

۷

تو ہمارا جواب ہے تنہااور تیرا جواب ہیں ہم لوگ

۸

تو ہے دریائے حسن و محبوبیشکل موج و حباب ہیں ہم لوگ

۹

گو سراپا حجاب ہیں پھر بھیتیرے رخ کی نقاب ہیں ہم لوگ

۱۰

خوب ہم جانتے ہیں اپنی قدرتیرے نا کامیاب ہیں ہم لوگ

۱۱

ہم سے غفلت نہ ہو تو پھر کیا ہورہرو ملک خواب ہیں ہم لوگ

۱۲

جانتا بھی ہے اس کو تو واعظجس کے مست و خراب ہیں ہم لوگ

۱۳

ہم پہ نازل ہوا صحیفۂ عشقصاحبان کتاب ہیں ہم لوگ

۱۴

ہر حقیقت سے جو گزر جائیںوہ صداقت مآب ہیں ہم لوگ

۱۵

جب ملی آنکھ ہوش کھو بیٹھےکتنے حاضر جواب ہیں ہم لوگ

۱۶

ہم سے پوچھو جگرؔ کی سر مستیمحرم آں جناب ہیں ہم لوگ

۲۴ / ۸۹