کلامِ جگرردیف ر
کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پر
کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پرمیں چمن میں چاہے جہاں رہوں مرا حق ہے فصل بہار پر
مجھے دیں نہ غیظ میں دھمکیاں گریں لاکھ بار یہ بجلیاںمری سلطنت یہ ہی آشیاں مری ملکیت یہ ہی چار پر
جنہیں کہئے عشق کی وسعتیں جو ہیں خاص حسن کی عظمتیںیہ اسی کے قلب سے پوچھئے جسے فخر ہو غم یار پر
مرے اشک خوں کی بہار ہے کہ مرقع غم یار ہےمری شاعری بھی نثار ہے مری چشم سحر نگار پر
عجب انقلاب زمانہ ہے مرا مختصر سا فسانہ ہےیہی اب جو بار ہے دوش پر یہی سر تھا زانوئے یار پر
یہ کمال عشق کی سازشیں یہ جمال حسن کی نازشیںیہ عنایتیں یہ نوازشیں مری ایک مشت غبار پر
مری سمت سے اسے اے صبا یہ پیام آخر غم سناابھی دیکھنا ہو تو دیکھ جا کہ خزاں ہے اپنی بہار پر
یہ فریب جلوہ ہے سر بسر مجھے ڈر یہ ہے دل بے خبرکہیں جم نہ جائے تری نظر انہیں چند نقش و نگار پر
میں رہین درد سہی مگر مجھے اور چاہئے کیا جگرؔغم یار ہے مرا شیفتہ میں فریفتہ غم یار پر
۲۳ / ۸۹