کلامِ جگرردیف ر

کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پر

۱

کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پرمیں چمن میں چاہے جہاں رہوں مرا حق ہے فصل بہار پر

۲

مجھے دیں نہ غیظ میں دھمکیاں گریں لاکھ بار یہ بجلیاںمری سلطنت یہ ہی آشیاں مری ملکیت یہ ہی چار پر

۳

جنہیں کہئے عشق کی وسعتیں جو ہیں خاص حسن کی عظمتیںیہ اسی کے قلب سے پوچھئے جسے فخر ہو غم یار پر

۴

مرے اشک خوں کی بہار ہے کہ مرقع غم یار ہےمری شاعری بھی نثار ہے مری چشم سحر نگار پر

۵

عجب انقلاب زمانہ ہے مرا مختصر سا فسانہ ہےیہی اب جو بار ہے دوش پر یہی سر تھا زانوئے یار پر

۶

یہ کمال عشق کی سازشیں یہ جمال حسن کی نازشیںیہ عنایتیں یہ نوازشیں مری ایک مشت غبار پر

۷

مری سمت سے اسے اے صبا یہ پیام آخر غم سناابھی دیکھنا ہو تو دیکھ جا کہ خزاں ہے اپنی بہار پر

۸

یہ فریب جلوہ ہے سر بسر مجھے ڈر یہ ہے دل بے خبرکہیں جم نہ جائے تری نظر انہیں چند نقش و نگار پر

۹

میں رہین درد سہی مگر مجھے اور چاہئے کیا جگرؔغم یار ہے مرا شیفتہ میں فریفتہ غم یار پر

۲۳ / ۸۹