کلامِ جگرردیف م

رکھتے ہیں خضر سے نہ غرض رہ نما سے ہم

۱

رکھتے ہیں خضر سے نہ غرض رہ نما سے ہمچلتے ہیں بچ کے دور ہر اک نقش پا سے ہم

۲

مانوس ہو چلے ہیں جو دل کی صدا سے ہمشاید کہ جی اٹھے تری آواز پا سے ہم

۳

یا رب نگاہ شوق کو دے اور وسعتیںگھبرا اٹھے جمال جہت آشنا سے ہم

۴

مخصوص کس کے واسطے ہے رحمت تمامپوچھیں گے ایک دن یہ کسی پارسا سے ہم

۵

او مست ناز حسن تجھے کچھ خبر بھی ہےتجھ پر نثار ہوتے ہیں کس کس ادا سے ہم

۶

یہ کون چھا گیا ہے دل و دیدہ پر کہ آجاپنی نظر میں آپ ہیں ناآشنا سے ہم

۲۵ / ۸۹