کلامِ جگرردیف ہ

اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہ

۱

اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہہاں کوئی نظر رحمت سلطان مدینہ

۲

تو صبح ازل آئینہ حسن ازل بھیاے صل علی صورت سلطان مدینہ

۳

اے خاک مدینہ تری گلیوں کے تصدقتو خلد ہے تو جنت سلطان مدینہ

۴

ظاہر میں غریب الغربا پھر بھی یہ عالمشاہوں سے سوا سطوت سلطان مدینہ

۵

اس طرح کہ ہر سانس ہو مصروف عبادتدیکھوں میں در دولت سلطان مدینہ

۶

کونین کا غم، یاد خدا، درد شفاعتدولت ہے یہی دولت سلطان مدینہ

۷

اس امت عاصی سے نہ منہ پھیر خدا یانازک ہے بہت غیرت سلطان مدینہ

۸

اے جان بلب آمدہ، ہشیار، خبرداروہ سامنے ہیں حضرت سلطان مدینہ

۹

کچھ اور نہیں کام جگر مجھ کو کسی سےکافی ہے بس اک نسبت سلطان مدینہ

۴۲ / ۸۹