کلامِ جگرردیف ن

قحط بنگال

۱

بنگال کی میں شام و سحر دیکھ رہا ہوںہر چند کہ ہوں دور مگر دیکھ رہا ہوں

۲

افلاس کی ماری ہوئی مخلوق سر راہبے گور و کفن خاک بہ سر دیکھ رہا ہوں

۳

بچوں کا تڑپنا وہ بلکنا وہ سسکناماں باپ کی مایوس نظر دیکھ رہا ہوں

۴

انسان کے ہوتے ہوئے انسان کا یہ حشردیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہا ہوں

۵

رحمت کا چمکنے کو ہے پھر نیر تاباںہونے کو ہے اس شب کی سحر دیکھ رہا ہوں

۶

خاموش نگاہوں میں امنڈتے ہوئے جذباتجذبات میں طوفان شرر دیکھ رہا ہوں

۷

بیداریٔ احساس ہے ہر سمت نمایاںبیتابئ ارباب نظر دیکھ رہا ہوں

۸

انجام ستم اب کوئی دیکھے کہ نہ دیکھےمیں صاف ان آنکھوں سے مگر دیکھ رہا ہوں

۹

صیاد نے لوٹا تھا عنادل کا نشیمنصیاد کا جلتے ہوئے گھر دیکھ رہا ہوں

۱۰

اک تیغ کی جنبش سی نظر آتی ہے مجھ کواک ہاتھ پس پردۂ در دیکھ رہا ہوں

۴۱ / ۸۹