کلامِ جگرردیف ہ
یہ فلک یہ ماہ و انجم یہ زمین یہ زمانہ
۱
یہ فلک یہ ماہ و انجم یہ زمین یہ زمانہترے حسن کی حکایت مرے عشق کا فسانہ
۲
یہ ہے عشق کی کرامت یہ کمال شاعرانہابھی منہ سے بات نکلی ابھی ہو گئی فسانہ
۳
یہ مرا پیام کہنا تو صبا مودبانہکہ گزر گیا ہے پیارے تجھے دیکھے اک زمانہ
۴
مجھے چاک جیب و دامن سے نہیں مناسبت کچھیہ جنوں ہی کو مبارک رہ و رسم عامیانہ
۵
تجھے حادثات پیہم سے بھی کیا ملے گا ناداںترا دل اگر ہو زندہ تو نفس بھی تازیانہ
۶
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہجو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
۴۳ / ۸۹