کلامِ جگرردیف م
اللہ رے اس گلشن ایجاد کا عالم
۱
اللہ رے اس گلشن ایجاد کا عالمجو صید کا عالم وہی صیاد کا عالم
۲
اف رنگ رخ بانی بیداد کا عالمجیسے کسی مظلوم کی فریاد کا عالم
۳
پہروں سے دھڑکنے کی بھی آتی نہیں آوازکیا جانئے کیا ہے دل ناشاد کا عالم
۴
منصور تو سر دے کے سبک ہو گیا لیکنجلاد سے پوچھے کوئی جلاد کا عالم
۵
میں اور ترے ہجر مسلسل کی شکایتتیرا ہی تو عالم ہے تیری یاد کا عالم
۶
کیا جانیے کیا ہے مری معراج مقامیعالم تو ہے صرف اک مری افتاد کا عالم
۷
ارباب چمن سے نہیں پوچھو یہ چمن سےکہتے ہیں کسے نکہت برباد کا عالم
۸
کیوں آتش گل میرے نشیمن کو جلائےتنکوں میں ہے خود برق چمن زاد کا عالم
۲۷ / ۸۹