کلامِ جگرردیف ن

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں

۱

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیںفیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں

۲

یہ تو نے کہا کیا اے ناداں فیاضی قدرت عام نہیںتو فکر و نظر تو پیدا کر کیا چیز ہے جو انعام نہیں

۳

یارب یہ مقام عشق ہے کیا گو دیدہ و دل ناکام نہیںتسکین ہے اور تسکین نہیں آرام ہے اور آرام نہیں

۴

کیوں مست شراب عیش و طرب تکلیف توجہ فرمائیںآواز شکست دل ہی تو ہے آواز شکست جام نہیں

۵

آنا ہے جو بزم جاناں میں پندار خودی کو توڑ کے آاے ہوش و خرد کے دیوانے یاں ہوش و خرد کا کام نہیں

۶

زاہد نے کچھ اس انداز سے پی ساقی کی نگاہیں پڑنے لگیںمے کش یہی اب تک سمجھے تھے شائستہ دور جام نہیں

۷

عشق اور گوارا خود کر لے بے شرط شکست فاش اپنیدل کی بھی کچھ ان کے سازش ہے تنہا یہ نظر کا کام نہیں

۸

سب جس کو اسیری کہتے ہیں وہ تو ہے امیری ہی لیکنوہ کون سی آزادی ہے یہاں جو آپ خود اپنا دام نہیں

۲۸ / ۸۹