کلامِ جگرردیف ن

بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں

۱

بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میںخالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں میں

۲

پیہم جو آہ آہ کیے جا رہا ہوں میںدولت ہے غم زکوٰۃ دئیے جا رہا ہوں میں

۳

مجبوری کمال محبت تو دیکھناجینا نہیں قبول جیے جا رہا ہوں میں

۴

وہ دل کہاں ہے اب کہ جسے پیار کیجیےمجبوریاں ہیں ساتھ دئیے جا رہا ہوں میں

۵

رخصت ہوئی شباب کے ہم راہ زندگیکہنے کی بات ہے کہ جیے جا رہا ہوں میں

۶

پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شرابکوئی پلا رہا ہے پیے جا رہا ہوں میں

۲۹ / ۸۹