کلامِ جگرردیف ن
نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں
نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیںہم ان میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیں
شروع راہ محبت ارے معاذ اللہیہ حال ہے کہ قدم ڈگمگائے جاتے ہیں
یہ ناز حسن تو دیکھو کہ دل کو تڑپا کرنظر ملاتے نہیں مسکرائے جاتے ہیں
مرے جنون تمنا کا کچھ خیال نہیںلجائے جاتے ہیں دامن چھڑائے جاتے ہیں
جو دل سے اٹھتے ہیں شعلے وہ رنگ بن بن کرتمام منظر فطرت پہ چھائے جاتے ہیں
میں اپنی آہ کے صدقے کہ میری آہ میں بھیتری نگاہ کے انداز پائے جاتے ہیں
رواں دواں لیے جاتی ہے آرزوئے وصالکشاں کشاں ترے نزدیک آئے جاتے ہیں
کہاں منازل ہستی کہاں ہم اہل فناابھی کچھ اور یہ تہمت اٹھائے جاتے ہیں
مری طلب بھی اسی کے کرم کا صدقہ ہےقدم یہ اٹھتے نہیں ہیں اٹھائے جاتے ہیں
الٰہی ترک محبت بھی کیا محبت ہےبھلاتے ہیں انہیں وہ یاد آئے جاتے ہیں
سنائے تھے لب نے سے کسی نے جو نغمےلب جگرؔ سے مکرر سنائے جاتے ہیں
۳۸ / ۸۹