کلامِ جگرردیف ن
نگاہوں کا مرکز بنا جا رہا ہوں
نگاہوں کا مرکز بنا جا رہا ہوںمحبت کے ہاتھوں لٹا جا رہا ہوں
میں قطرہ ہوں لیکن بہ آغوش دریاازل سے ابد تک بہا جا رہا ہوں
مبارک مبارک مری یہ فنائیںدوعالم پہ چھایا چلا جا رہا ہوں
وہی حسن جس کے ہیں یہ سب مظاہراسی حسن میں حل ہوا جا رہا ہوں
یہ کس کی طرف سے یہ کس کی طرف کومیں ہم دوش موج فنا جا رہا ہوں
نہ جانے کہاں سے نہ جانے کدھر کوبس اک اپنی دھن میں اڑا جا رہا ہوں
مجھے روک سکتا ہو کوئی تو روکےکہ چھپ کر نہیں برملا جا رہا ہوں
میرے پاس آؤ یہ کیا سامنے ہوںمری سمت دیکھو یہ کیا جا رہا ہوں
نگاہوں میں منزل مری پھر رہی ہےیوں ہی گرتا پڑتا چلا جا رہا ہوں
تری مست نظریں غضب ڈھا رہی ہیںیہ عالم ہے جیسے اڑا جا رہا ہوں
کدھر ہے تو اے غیرت حسن خود میںمحبت کے ہاتھوں بکا جا رہا ہوں
نہ اوراک ہستی نہ احساس مستیجدھر چل پڑا ہوں چلا جا رہا ہوں
نہ صورت نہ معنی نہ پیدا نہ پنہاںیہ کس حسن میں گم ہوا جا رہا ہوں
۳۹ / ۸۹