کلامِ جگرردیف ن

محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں

۱

محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیںکہ منزل پہ ہیں اور چلے جا رہے ہیں

۲

یہ کہہ کہہ کے ہم دل کو بہلا رہے ہیںوہ اب چل چکے ہیں وہ اب آ رہے ہیں

۳

وہ از خود ہی نادم ہوئے جا رہے ہیںخدا جانے کیا کیا خیال آ رہے ہیں

۴

ہمارے ہی دل سے مزے ان کے پوچھووہ دھوکے جو دانستہ ہم کھا رہے ہیں

۵

جفا کرنے والوں کو کیا ہو گیا ہےوفا کر کے بھی ہم تو شرما رہے ہیں

۶

وہ عالم ہے اب یارو اغیار کیسےہمیں اپنے دشمن ہوئے جا رہے ہیں

۷

مزاج گرامی کی ہو خیر یاربکئی دن سے اکثر وہ یاد آ رہے ہیں

۴۰ / ۸۹