کلامِ میرردیف الف

آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا

۱

آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیااس باؤ نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا

۲

سمجھی نہ باد صبح کہ آ کر اٹھا دیااس فتنۂ زمانہ کو ناحق جگا دیا

۳

پوشیدہ راز عشق چلا جائے تھا سو آجبے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا

۴

اس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہپانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا

۵

تھی لاگ اس کی تیغ کو ہم سے سو عشق نےدونوں کو معرکے میں گلے سے ملا دیا

۶

سب شور ما و من کو لیے سر میں مر گئےیاروں کو اس فسانے نے آخر سلا دیا

۷

آوارگان عشق کا پوچھا جو میں نشاںمشت غبار لے کے صبا نے اڑا دیا

۸

اجزا بدن کے جتنے تھے پانی ہو بہہ گئےآخر گداز عشق نے ہم کو بہا دیا

۹

کیا کچھ نہ تھا ازل میں نہ تالا جو تھے درستہم کو دل شکستہ قضا نے دلا دیا

۱۰

گویا محاسبہ مجھے دینا تھا عشق کااس طور دل سی چیز کو میں نے لگا دیا

۱۱

مدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلکجلوے کو جس نے ماہ کے جی سے بھلا دیا

۱۲

ہم نے تو سادگی سے کیا جی کا بھی زیاںدل جو دیا تھا سو تو دیا سر جدا دیا

۱۳

بوئی کباب سوختہ آئی دماغ میںشاید جگر بھی آتش غم نے جلا دیا

۱۴

تکلیف درد دل کی عبث ہم نشیں نے کیدرد سخن نے میرے سبھوں کو رلا دیا

۱۵

ان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میرؔہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا

۶ / ۵۸۲