کلامِ میرردیف الف

گل کو محبوب ہم قیاس کیا

۱

گل کو محبوب ہم قیاس کیافرق نکلا بہت جو پاس کیا

۲

دل نے ہم کو مثال آئینہایک عالم کا روشناس کیا

۳

کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بنشوق نے ہم کو بے حواس کیا

۴

عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانےقیس کی آبرو کا پاس کیا

۵

دور سے چرخ کے نکل نہ سکےضعف نے ہم کو مورطاس کیا

۶

صبح تک شمع سر کو دھنتی رہیکیا پتنگے نے التماس کیا

۷

تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیںسو ترے ظلم نے نراس کیا

۸

ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباںمیرؔ کو تم عبث اداس کیا

۱۰۳ / ۵۸۲