کلامِ میرردیف الف

گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سا

۱

گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سابرقعے سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا

۲

گل برگ کا یہ رنگ ہے مرجاں کا ایسا ڈھنگ ہےدیکھو نہ جھمکے ہے پڑا وہ ہونٹ لعل ناب سا

۳

وہ مایۂ جاں تو کہیں پیدا نہیں جوں کیمیامیں شوق کی افراط سے بیتاب ہوں سیماب سا

۴

دل تاب ہی لایا نہ ٹک تا یاد رہتا ہم نشیںاب عیش روز وصل کا ہے جی میں بھولا خواب سا

۵

سناہٹے میں جان کے ہوش و حواس و دم نہ تھااسباب سارا لے گیا آیا تھا اک سیلاب سا

۶

ہم سرکشی سے مدتوں مسجد سے بچ بچ کر چلےاب سجدے ہی میں گزرے ہے قد جو ہوا محراب سا

۷

تھی عشق کی وہ ابتدا جو موج سی اٹھی کبھواب دیدۂ تر کو جو تم دیکھو تو ہے گرداب سا

۸

بہکے جو ہم مست آ گئے سو بار مسجد سے اٹھاواعظ کو مارے خوف کے کل لگ گیا جلاب سا

۹

رکھ ہاتھ دل پر میرؔ کے دریافت کر کیا حال ہےرہتا ہے اکثر یہ جواں کچھ ان دنوں بیتاب سا

۱۰۴ / ۵۸۲