کلامِ میرردیف الف

ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا

۱

ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کانکلے ہے جی ہی اس کے لیے کائنات کا

۲

بکھری ہے زلف اس رخ عالم فروز پرورنہ بناؤ ہووے نہ دن اور رات کا

۳

در پردہ وہ ہی معنی مقوم نہ ہوں اگرصورت نہ پکڑے کام فلک کے ثبات کا

۴

ہیں مستحیل خاک سے اجزائے نو خطاںکیا سہل ہے زمیں سے نکلنا نبات کا

۵

مستہلک اس کے عشق کے جانیں ہیں قدر مرگعیسیٰ و خضر کو ہے مزہ کب وفات کا

۶

اشجار ہوویں خامہ و آب سیہ بحارلکھنا نہ تو بھی ہو سکے اس کی صفات کا

۷

اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نورشمع حرم ہو یا کہ دیا سومنات کا

۸

بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہہے دید چشم دل کے کھلے عین ذات کا

۹

ہر صفحے میں ہے محو کلام اپنا دس جگہمصحف کو کھول دیکھ ٹک انداز بات کا

۱۰

ہم مذنبوں میں صرف کرم سے ہے گفتگومذکور ذکر یاں نہیں صوم و صلٰوۃ کا

۱۱

کیا میرؔ تجھ کو نامہ سیاہی کا فکر ہےختم رسل سا شخص ہے ضامن نجات کا

۱۰۵ / ۵۸۲