کلامِ میرردیف الف
گل و بلبل بہار میں دیکھا
۱
گل و بلبل بہار میں دیکھاایک تجھ کو ہزار میں دیکھا
۲
جل گیا دل سفید ہیں آنکھیںیہ تو کچھ انتظار میں دیکھا
۳
جیسا مضطر تھا زندگی میں دلووہیں میں نے قرار میں دیکھا
۴
آبلے کا بھی ہونا دامن گیرتیرے کوچے کے خار میں دیکھا
۵
تیرہ عالم ہوا یہ روز سیاہاپنے دل کے غبار میں دیکھا
۶
ذبح کر میں کہا تھا مرتا ہوںدم نہیں مجھ شکار میں دیکھا
۷
جن بلاؤں کو میرؔ سنتے تھےان کو اس روزگار میں دیکھا
۱۰۶ / ۵۸۲