کلامِ میرردیف الف

ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا

۱

ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کاٹکڑا مرا جگر ہے کہو سنگ سخت کا

۲

سبزان ان رو کی جہاں جلوہ گاہ تھیاب دیکھیے تو واں نہیں سایہ درخت کا

۳

جوں برگ ہائے لالہ پریشان ہو گیامذکور کیا ہے اب جگر لخت لخت کا

۴

دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیںتھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا

۵

خاک سیہ سے میں جو برابر ہوا ہوں میرؔسایہ پڑا ہے مجھ پہ کسو تیرہ بخت کا

۱۰۷ / ۵۸۲