کلامِ میرردیف الف

گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا

۱

گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیاراتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیا

۲

ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج ترتیوری چڑھائی تو نے کہ یاں جی نکل گیا

۳

گرمئ عشق مانع نشوونما ہوئیمیں وہ نہال تھا کہ اگا اور جل گیا

۴

مستی میں چھوڑ دیر کو کعبے چلا تھا میںلغزش بڑی ہوئی تھی ولیکن سنبھل گیا

۵

ساقی نشے میں تجھ سے لنڈھا شیشۂ شرابچل اب کہ دخت تاک کا جوبن تو ڈھل گیا

۶

ہر ذرہ خاک تیری گلی کی ہے بے قراریاں کون سا ستم زدہ ماٹی میں رل گیا

۷

عریاں تنی کی شوخی سے دیوانگی میں میرؔمجنوں کے دشت خار کا داماں بھی چل گیا

۱۰۸ / ۵۸۲