کلامِ میرردیف الف
گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا
۱
گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کاجگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا
۲
سمند ناز نے اس کے جہاں کیا پامالوہی ہے اب بھی اسے شوق ترک تازی کا
۳
ستم ہیں قہر ہیں لونڈے شراب خانے کےاتار لیتے ہیں عمامہ ہر نمازی کا
۴
الٹ پلٹ مری آہ سحر کی کیا ہے کماگر خیال تمہیں ہووے نیزہ بازی کا
۵
بتاؤ ہم سے کوئی آن تم سے کیا بگڑینہیں ہے تم کو سلیقہ زمانہ سازی کا
۶
خدا کو کام تو سونپے ہیں میں نے سب لیکنرہے ہے خوف مجھے واں کی بے نیازی کا
۷
چلو ہو راہ موافق کہے مخالف کےطریق چھوڑ دیا تم نے دل نوازی کا
۸
کسو کی بات نے آگے مرے نہ پایا رنگدلوں میں نقش ہے میری سخن طرازی کا
۹
بسان خاک ہو پامال راہ خلق اے میرؔرکھے ہے دل میں اگر قصد سرفرازی کا
۱۰۹ / ۵۸۲