کلامِ میرردیف الف
اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا
۱
اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگادشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہوگا
۲
اب اشک حنائی سے جو تر نہ کرے مژگاںوہ تجھ کف رنگیں کا مارا نہ ہوا ہوگا
۳
ٹک گور غریباں کی کر سیر کہ دنیا میںان ظلم رسیدوں پر کیا کیا نہ ہوا ہوگا
۴
بے نالہ و بے زاری بے خستگی و خواریامروز کبھی اپنا فردا نہ ہوا ہوگا
۵
ہے قاعدہ کلی یہ کوئے محبت میںدل غم جو ہوا ہوگا پیدا نہ ہوا ہوگا
۶
اس کہنہ خرابے میں آبادی نہ کر منعمیک شہر نہیں یاں جو صحرا نہ ہوا ہوگا
۷
آنکھوں سے تری ہم کو ہے چشم کہ اب ہووےجو فتنہ کہ دنیا میں برپا نہ ہوا ہوگا
۸
جز مرتبۂ کل کو حاصل کرے ہے آخریک قطرہ نہ دیکھا جو دریا نہ ہوا ہوگا
۹
صد نشتر مژگاں کے لگنے سے نہ نکلا خوںآگے تجھے میرؔ ایسا سودا نہ ہوا ہوگا
۱۲ / ۵۸۲