کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا

چشمک ہی نہیں تازی شیوے یہ اسی کے ہیںجھمکی سی دکھا دے کر عالم کو لگا رکھا

About this couplet

This is couplet 7 of 10 in “⁨کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۷ / ۱۰