کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا
لگنے کے لیے دل کے چھڑکا تھا نمک میں نےسو چھاتی کے زخموں نے کل دیر مزہ رکھا
About this couplet
This is couplet 8 of 10 in “کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۸ / ۱۰