کلامِ میرردیف الف
گزرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کا
۱
گزرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کاخانہ خراب ہو جیو اس دل کی چاہ کا
۲
آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر دیکھتا نہیںمرتا ہوں میں تو ہائے رے صرفہ نگاہ کا
۳
صد خانماں خراب ہیں ہر ہر قدم پہ دفنکشتہ ہوں یار میں تو ترے گھر کی راہ کا
۴
یک قطرہ خون ہو کے پلک سے ٹپک پڑاقصہ یہ کچھ ہوا دل غفراں پناہ کا
۵
تلوار مارنا تو تمہیں کھیل ہے ولےجاتا رہے نہ جان کسو بے گناہ کا
۶
بدنام و خوار و زار و نزار و شکستہ حالاحوال کچھ نہ پوچھیے اس رو سیاہ کا
۷
ظالم زمیں سے لوٹتا دامن اٹھا کے چلہوگا کمیں میں ہاتھ کسو داد خواہ کا
۸
اے تاج شہ نہ سر کو فرو لاؤں تیرے پاسہے معتقد فقیر نمد کی کلاہ کا
۹
ہر لخت دل میں صید کے پیکان بھی گئےدیکھا میں شوخ ٹھاٹھ تری صید گاہ کا
۱۰
بیمار تو نہ ہووے جیے جب تلک کہ میرؔسونے نہ دے گا شور تری آہ آہ کا
۱۱۱ / ۵۸۲