کلامِ میرردیف الف

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

۱

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیادل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

۲

قسم جو کھائیے تو طالع زلیخا کیعزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا

۳

خراب رہتے تھے مسجد کے آگے مے خانےنگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا

۴

وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھینہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا

۵

مزا دکھاویں گے بے رحمی کا تری صیادگر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا

۶

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میںتمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

۷

اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔپہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لیا

۱۱۲ / ۵۸۲