کلامِ میرردیف الف

ہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشا

۱

ہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشادیکھا جو خوب تو ہے دنیا عجب تماشا

۲

ہر چند شور محشر اب بھی ہے در پہ لیکننکلے گا یار گھر سے ہووے گا جب تماشا

۳

بھڑکے ہے آتش غم منظور ہے جو تجھ کوجلنے کا عاشقوں کے آ دیکھ اب تماشا

۴

طالع جو میرؔ خواری محبوب کو خوش آئیپرغم یہ ہے مخالف دیکھیں گے سب تماشا

۱۱۳ / ۵۸۲