کلامِ میرردیف الف
یہ میرؔ ستم کشتہ کسو وقت جواں تھا
۱
یہ میرؔ ستم کشتہ کسو وقت جواں تھاانداز سخن کا سبب شور و فغاں تھا
۲
جادو کی پڑی پرچۂ ابیات تھا اس کامنہ تکیے غزل پڑھتے عجب سحر بیاں تھا
۳
جس راہ سے وہ دل زدہ دلی میں نکلتاساتھ اس کے قیامت کا سا ہنگامہ رواں تھا
۴
افسردہ نہ تھا ایسا کہ جوں آب زدہ خاکآندھی تھی بلا تھا کوئی آشوب جہاں تھا
۵
کس مرتبہ تھی حسرت دیدار مرے ساتھجو پھول مری خاک سے نکلا نگراں تھا
۶
مجنوں کو عبث دعوی وحشت ہے مجھی سےجس دن کہ جنوں مجھ کو ہوا تھا وہ کہاں تھا
۷
غافل تھے ہم احوال دل خستہ سے اپنےوہ گنج اسی کنج خرابی میں نہاں تھا
۸
کس زور سے فرہاد نے خارا شکنی کیہر چند کہ وہ بیکس و بے تاب و تواں تھا
۹
گو میرؔ جہاں میں کنھوں نے تجھ کو نہ جاناموجود نہ تھا تو تو کہاں نام و نشاں تھا
۱۱۴ / ۵۸۲