کلامِ میرردیف الف

ہے حال جائے گریہ جاں پر آرزو کا

۱

ہے حال جائے گریہ جاں پر آرزو کاروئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا

۲

جاتی نہیں اٹھائی اپنے پہ یہ خشونتاب رہ گیا ہے آنا میرا کبھو کبھو کا

۳

اس آستاں سے کس دن پر شور سر نہ پٹکااس کی گلی میں جا کر کس رات میں نہ کوکا

۴

شاید کہ مند گئی ہے قمری کی چشم گریاںکچھ ٹوٹ سا چلا ہے پانی چمن کی جو کا

۵

اپنے تڑپنے کی تو تدبیر پہلے کر لوںتب فکر میں کروں گا زخموں کے بھی رفو کا

۶

دانتوں کی نظم اس کے ہنسنے میں جن نے دیکھیپھر موتیوں کی لڑ پر ان نے کبھو نہ تھوکا

۷

یہ عیش گا نہیں ہے یاں رنگ اور کچھ ہےہر گل ہے اس چمن میں ساغر بھرا لہو کا

۸

بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کرسب ہم سے سیکھتے ہیں انداز گفتگو کا

۹

گلیاں بھری پڑی ہیں اے باد زخمیوں سےمت کھول پیچ ظالم اس زلف مشک بو کا

۱۰

وے پہلی التفاتیں ساری فریب نکلیںدینا نہ تھا دل اس کو میں میرؔ آہ چوکا

۱۱۶ / ۵۸۲