کلامِ میرردیف الف
یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھا
۱
یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھاہر گلی شہر کی یاں کوچۂ رسوائی تھا
۲
اتنی گزری جو ترے ہجر میں سو اس کے سببصبر مرحوم عجب مونس تنہائی تھا
۳
تیرے جلوے کا مگر رو تھا سحر گلشن میںنرگس اک دیدۂ حیران تماشائی تھا
۴
یہی زلفوں کی تری بات تھی یا کاکل کیمیرؔ کو خوب کیا سیر تو سودائی تھا
۱۱۷ / ۵۸۲