کلامِ میرردیف ب

اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب

۱

اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شبمجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب

۲

جب میں شروع قصہ کیا آنکھیں کھول دیںیعنی تھی مجھ کو چشم نمائی تمام شب

۳

چشمک چلی گئی تھی ستاروں کی صبح تککی آسماں نے دیدہ درائی تمام شب

۴

بخت سیہ نے دیر میں کل یاوری سی کیتھی دشمنوں سے اس کو لڑائی تمام شب

۵

بیٹھے ہی گزری وعدے کی شب وہ نہ آ پھراایذا عجب طرح کی اٹھائی تمام شب

۶

سناہٹے سے دل سے گزر جائیں سو کہاںبلبل نے گو کی نالہ سرائی تمام شب

۷

تارے سے میری پلکوں پہ قطرے سرشک کےدیتے رہے ہیں میرؔ دکھائی تمام شب

۱۱۸ / ۵۸۲