کلامِ میرردیف الف

ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگا

۱

ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگاہر گام پہ جس میں سر نہ ہوگا

۲

کیا ان نے نشے میں مجھ کو مارااتنا بھی تو بے خبر نہ ہوگا

۳

دھوکا ہے تمام بحر دنیادیکھے گا کہ ہونٹ تر نہ ہوگا

۴

آئی جو شکست آئینے پرروئے دل یار ادھر نہ ہوگا

۵

دشنوں سے کسی کا اتنا ظالمٹکڑے ٹکڑے جگر نہ ہوگا

۶

اب دل کے تئیں دیا تو سمجھامحنت زدوں کے جگر نہ ہوگا

۷

دنیا کی نہ کر تو خواست گاریاس سے کبھو بہرہ ور نہ ہوگا

۸

آ خانہ خرابی اپنی مت کرقحبہ ہے یہ اس سے گھر نہ ہوگا

۹

ہو اس سے جہاں سیاہ تد بھینالے میں مرے اثر نہ ہوگا

۱۰

پھر نوحہ گری کہاں جہاں میںماتم زدہ میرؔ اگر نہ ہوگا

۱۳ / ۵۸۲