کلامِ میرردیف الف

برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بد گمان کا

۱

برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بد گمان کادیکھا تو اور رنگ ہے سارے جہان کا

۲

مت مانیو کہ ہوگا یہ بے درد اہل دیںگر آوے شیخ پہن کے جامہ قرآن کا

۳

خوبی کو اس کے چہرے کی کیا پہنچے آفتابہے اس میں اس میں فرق زمین آسمان کا

۴

ابلہ ہے وہ جو ہووے خریدار گل رخاںاس سودے میں صریح ہے نقصان جان کا

۵

کچھ اور گاتے ہیں جو رقیب اس کے روبرودشمن ہیں میری جان کے یہ جی ہے تان کا

۶

تسکین اس کی تب ہوئی جب چپ مجھے لگیمت پوچھ کچھ سلوک مرے بد زبان کا

۷

یاں بلبل اور گل پہ تو عبرت سے آنکھ کھولگل گشت سرسری نہیں اس گلستان کا

۸

گل یادگار چہرۂ خوباں ہے بے خبرمرغ چمن نشاں ہے کسو خوش زبان کا

۹

تو برسوں میں کہے ہے ملوں گا میں میرؔ سےیاں کچھ کا کچھ ہے حال ابھی اس جوان کا

۱۴ / ۵۸۲